عقیدہ ختم نبوت سبق 8

 *بسم الله الرحمن الرحيم*

   ⬜ادارہ فہم خاتم النبیینﷺکورس⬜ 

     *"سبق نمبر 8 کا مختصر تعارف"* 

آج کے اس سبق میں ان شاءاللہ ہم سمجھیں گے

 ⭕   مرزا غلام قادیانی کے دس جھوٹ

⚪ *قرب قیامت قادیان میں نیا نبی پیدا ہوگا... قادیانیوں کا دھوکہ*

⭐ *اجرائے نبوت کو ثابت کرنے کے لیے قادیانیوں کا قرآنی آیات پر جھوٹ اور اسکا جواب*

🚨  *مرزا قادیانی کی باحوالہ تحریرات جسمیں خود مرزا قادیانی نے حضور اکرمﷺ کو آخری نبی لکھا ہے*

👈 *نبوت نعمت ہے اور نبوت کا سلسلہ ختم ہونا محرومی ہے، قادیانی چل.*

🛑 *خلاصہ       

                ✍✍✍

⭕*(5)مرزا غلام قادیانی کے جھوٹ*


جھوٹ ایک ایسی بُری خصلت ہے جسے نہ صرف اسلام بلکہ ہرمذہب سے تعلق رکھنے والا بُرا جانتا ہے۔ اس کے علاوہ جھوٹ بولنا ایک معاشرتی اور اخلاقی عیب بھی ہے اس لیے انبیاء علیہم السلام کی ذوات قدسیہ جھوٹ سے مکمل بری ہوتے ہیں اسی لئے مرزا قادیانی جیسے کذاب نے بھی اپنی کتابوں میں کئی جگہ جھوٹ کی برائی بیان کی ہے۔ مرزا لکھتا ہے :

جھوٹ کے متعلق مرزا صاحب کے اپنے فتوے

1. ’’ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۲۰، روحانی خزائن ص ۵۶ ج ۱۷)


2. ’’ جھوٹ بولنے سے بد تر دنیا میں اور کوئی براکام نہیں ‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص ۲۶، روحانی خزائن ص۴۵۹ ج ۲۲)


3. ’’ تکلّف سے جھوٹ بولنا گوہ(پاخانہ) کھانے کے مترادف ہے ‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۹ ، روحانی خزائن ص۳۴۳ج۱۱ ، حقیقت الوحی ص۲۰۶ج ۲۲ص ۲۱۵)


4. ’’ جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا یہ کتو ں کا طریق ہے نہ انسانوں کا ۔‘‘ (انجام آتھم مطبع قادیان ص ۴۰، روحانی خزائن ص ۴۳ج ۱۱)


5. ’’ ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے وحی ہے جو مجھ پر ہوئی ہے ایسا بد ذات انسان تو کتوں اور سوؤروں اور بندروں سے بد تر ہے ۔‘‘ (براہین احمدیہ ج۵ ص ۱۲۶،۱۲۷۔ روحانی خزائن ج۲۱ ص۲۹۲)


6. ’’ وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں ۔ ‘‘ (شحنہ حق ص۶۰، روحانی خزائن ج۲ ص ۳۸۶)


7. ’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجا ئے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا ۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۲۲،روحانی خزائن ص۲۳۱ ج۲۳) 

🛑مرزا کے جھوٹ

اب ہم مرزا کے چند ایک جھوٹ پیش کرتے ہیں اس کے کذبات کا کما حقہ احاطہ کرنا کارے دارد ہے ۔ ہم نمونے کے طور پر چند اکاذیب مرزا بیان کریں گے۔

⭕ جھوٹ نمبر 1

’’ اولیاو گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگادی ہے کہ وہ )مسیح موعود۔ناقل) چودہویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیزیہ کہ پنجاب میں ہوگا۔‘‘ (اربعین نمبر ۲ص۲۳ طبع چناب نگر)ربوہ) ، روحانی خزائن ج۱۷ ص۳۷۱)

﴿مطبع قادیان میں انبیاء کا لفظ ہے بعد کے ایک ایڈیشن میں یہ وضاحت کی گئی کہ یہ لفظ غلطی سے لکھا گیا اور اب نئے ایڈیشن میں یہ وضاحت بھی حذف کردی گئی ہے ﴾ اولیا ء جمع کثرت ہے او رجمع کثرت دس سے اوپر ہوتی ہے اس لئے کم از کم دس معتمد اولیاء کے نام پیش کرو جنہوں نے بذریعہ کشف مہرلگائی ہو اور ولی ایسا ہو جس کو دونوں فریق صحیح ولی مانیں ۔ ہم کہتے ہیں کہ مرزا کا یہ سفید جھوٹ ہے کسی مسلمہ ولی نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ مہدی چودہویں صدی میں ہوگا اور نیزیہ کہ پنجاب میں ہوگا ۔ یہ تمام اولیاء کرام پر جھوٹ ہے ۔

⭕ جھوٹ نمبر 2

’’ اے عزیزو تم نے وہ وقت پا یا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کیلئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی ۔‘‘ (اربعین نمبر ۴ ص ۱۳،روحانی خزائن ص۴۴۲ ج۱۷) یہ بھی بالکل صاف جھوٹ ہے کسی ایک پیغمبر سے یہ خواہش کرنا ثابت نہیں ہے ۔

⭕ جھوٹ نمبر 3

’’ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توراۃ کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی بلکہ مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے ۔‘‘ (کشتی نوح ص ۵، روحانی خزائن ص۵ ج۱۹) اسی عبارت کے متعلق اسی صفحہ پر حاشیہ لکھا ’’ مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کی کتابوں میں موجود ہے :زکریا باب ۱۴ آیت ۱۲بائبل ۸۹۱، انجیل متی باب ۲۴ آیت ۸، مکاشفات باب ۲۲ آیت ۸،عہد نامہ جدید ص۲۵۹۔‘‘ اس عبارت میں ایک جھوٹ نہیں بلکہ خدا تعالی کی چار آسمانی کتابوں پر چار عدد جھوٹ ہیں ۔ مذکورہ کتب کے مذکورہ صفحات پر ہر گز مسیح موعود کے وقت طاعون کے پڑنے کا ذکر نہیں ہے ۔

 ⭕ جھوٹ نمبر 4:

ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کیطرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا مگر عیسی علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توراۃ پڑھی تھی ……۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن و حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا سو میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن وحدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہویا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیا ر کی ہو۔‘‘ (ایام صلح ص۱۴۷، روحانی خزائن ص۳۹۴ ج ۱۴) 

یہ صریح جھوٹ ہے ۔ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہماالسلام نے کون سے مکتبوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کی ؟ یہ ان انبیا ء پر صریح الزام ہے ، قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت کرو کہ حضرت عیسیٰ نے کون سے یہودی عالم سے توراۃ پڑھی تھی ۔ حالانکہ قرآن پاک میں ہے ’’ ویعلمہم الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ‘‘ یعنی میں خود ان کو تعلیم دوں گا اسی طرح قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے ’’ واذاعلمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ‘‘ اور جب میں نے کتاب اور حکمت توراۃ وانجیل سکھائی۔ )پ۷ سورۃ المائدۃ آیت ۱۱۰ رکوع ۱۰) اس میں بھی تعلیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے آگے جو اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میرا یہی حال ہے ……الخ ۔یہ بھی صاف جھوٹ ہے ہم ثابت کرتے ہیں کہ مرزا کے متعدد اساتذہ تھے۔کتاب البریۃ ص۱۶۱ تا ۱۶۳،روحانی خزائن ص۱۸۰ ۔ ۱۸۱ ج۱۳ کے حاشیہ پر اس کے اپنے ہاتھوں سے اس کی تعلیم کا حال موجود ہے جیسا کہ شروع میں گذر چکا ہے۔

⭕ جھوٹ نمبر 5:

’’ احادیث صحیحہ میں آیاتھا کہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور چودہویں صدی کا مجدد ہوگا۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۸،روحانی خزائن ج۲۱ ص ۳۵۹) جبکہ کتاب البریہ ص ۱۸۷۔۱۸۸ بر حاشیہ روحانی خزائن ج۱۳ ص۲۰۵۔۲۰۶ کی عبارت یہ ہے:

’’ بہت سے اہل کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودہویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا اور یہ پیش گوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طورپر پائی جاتی ہے مگر احادیث کی رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عندالعقل ممتنع ہے ۔‘‘ احادیث جمع کثر ت ہے اس لئے کم ازکم دس احادیث صحیحہ متواترہ دکھاؤ جن میں مسیح موعود کے چودھویں صدی کے سر پر آنے کے الفاظ وغیرہ موجود ہوں مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزائی امت تا قیامت کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں دکھا سکتی ۔ یہ حضور ﷺ پر صریح افتراء اور بہتان ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا : 

’’ من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعد ہ من النار ‘‘ ’’ یعنی جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا پس وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے ‘‘ لہذا یہ جھوٹ بول کر بھی مرزا جہنمی ہوا۔

⭕ جھوٹ نمبر 6:

’’ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کیلئے آواز آئے گی کہ: ’’ ھذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے ۔‘‘ (شہادۃ القرآ ن ص ۴۱،روحانی خزائن ص۳۳۷ج۶)

جھوٹ بالکل جھوٹ ! بخاری شریف میں اس قسم کی کوئی حدیث نہیں ۔ ھاتوا برہانکم ان کنتم صادقین ۔

⭕ جھوٹ نمبر 7:

’’ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے ۔ مکہ ، مدینہ اور قادیان ۔‘‘ (ازالہ اوہام بر حاشیہ ص۳۴، روحانی خزائن ص ۱۴۰ ج۳)

⭕ جھوٹ نمبر 8:

’’ وقد سبونی بکل سب فمارددت علیہم جوابہم ‘‘ 

ترجمہ:مجھ کو گالی دی گئی میں نے جواب نہیں دیا (مواہب الرحمن ص۱۸ طبع اول ص۲۰ طبع دوم۔ روحانی خزائن ص۲۳۶ ج۱۹) 

یہ بالکل جھوٹ ہے کہ میں نے لوگوں کی گالیوں کا جواب نہیں دیا بلکہ خود مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتدا سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے ۔ (کتاب البریۃ دیباچہ ص۱۰، روحانی خزائن ص ۱۱ ج۱۳)

⭕ جھوٹ نمبر9 :

تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابوہریرہ فہم قرآن میں ناقص تھا۔ )خزائن ج۲۱ ص ۴۱۰) یہ مرزا قادیانی کا تفسیر ثنائی پر خالص افتراء ہے۔ تفسیر ثنائی میں کہیں یہ بات نہیں لکھی گئی، مرزا قادیانی کو تفسیر ثنائی پر جھوٹ اس لئے بولنا پڑا کہ اس بدبخت نے خود اپنی کتابوں میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی توہین کرتے ہوئے انہیں ناقص الفہم لکھا ہے اس لیے اعتراض سے بچنے کیلئے اس توہین کی نسبت تفسیر ثنائی کی طرف کر دی۔ ہمارا مرزائیوں کو چیلنج ہے کہ تفسیر ثنائی میں یہ الفاظ دکھائیں تاکہ مرزے کے ماتھے سے جھوٹ کی اس لعنت کا داغ دھو سکیں۔

⭕ جھوٹ نمبر10:

حدیثوں میں صاف لکھا ہے کہ مسیح موعود کی تکفیرہوگی اور علمائے وقت اس کو کافر ٹھہرا ئیں گے اور کہیں گے کہ یہ سچ ہے اس نے تو ہمارے دین کی بیخ کنی کردی ہے۔ (خزائن ج ۱۷ ص ۲۱۳) یہ خالص افتراء ہے کسی ایک حدیث میں بھی ایسی بات نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کے تعلی آمیز دعووں اور توہین آمیز عبارات کو دیکھتے ہوئے علماء کرام نے اس کے کفر کا اعلان کیا تو مرزا قادیانی نے محض اپنے کفر کے خلاف اس تحریک کو کمزور کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء باندھ دیا۔

قارئین کرام! مرزا قادیانی کے چند جھوٹ آپ کے سامنے نقل کیے ہیں آپ مرزا قادیانی کے فتووں کو سامنے رکھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا مرزا قادیانی شرک نہیں کر رہا؟ کیا مرزا قادیانی کتوں کے طریق پر نہیں چل رہا؟ کیا مرزا قادیانی جھوٹ بول کرگوہ نہیں کھا رہا؟ اور کیا مرزا قادیانی وہ کام نہیں کر رہا جس کے کرنے میں ولد الزنا کنجر بھی شرماتے ہوں۔


⚪ مسئلہ اجرائے نبوت پر چند آیات پر قادیانیوں کے باطل شبہات اور ان  کے علمی تحقیقی جوابات"*


⚪ آیت نمبر 1

قادیانی قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے باطل استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امت محمدیہﷺ میں قرب قیامت ایک اور نیا رسول قادیان میں پیدا ہوگا۔اور وہ لوگوں کی اصلاح کرے گا۔ 

آیئے پہلے آیات اور اس کا ترجمہ دیکھتے ہیں پھر قادیانیوں کے باطل استدلال کا علمی رد کرتے ہیں۔ 


⚪آیات 

 *ہُوَ الَّذِیۡ  بَعَثَ فِی  الۡاُمِّیّٖنَ  رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ  یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ  اٰیٰتِہٖ  وَ  یُزَکِّیۡہِمۡ وَ  یُعَلِّمُہُمُ  الۡکِتٰبَ وَ  الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ  اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ  قَبۡلُ  لَفِیۡ ضَلٰلٍ  مُّبِیۡنٍ ۙ۔* 

*وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ  لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَ ہُوَ  الۡعَزِیۡزُ  الۡحَکِیۡمُ۔*

آیت کا ترجمہ 

وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں اور ان کو پاکیزہ بنایئں اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں۔اور ان میں سے کچھ اور بھی ہیں جو ابھی آکر ان سے نہیں ملے۔وہ بڑے اقتدار والا بڑی حکمت والا ہے۔ 

*(سورۃ الجمعہ آیت 2،3)*


🛑قادیانیوں کا باطل استدلال 


قادیانی قرآن مجید کی اس آیت سے باطل استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امت محمدیہؑ میں قرب قیامت ایک اور نیا رسول قادیان میں  پیدا ہوگا۔اور وہ لوگوں کی اصلاح کرے گا۔ 

قادیانیوں کے اس باطل استدلال کے بہت سے جوابات ہیں۔ملاحظہ فرمائیں۔ 


⚪جواب نمبر 1

 اگر اس آیت کی تفسیر "تفسیر القرآن بالقرآن " دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ 

یہ آیت کریمہ دراصل اس دعا کا جواب ہے جو حضرت ابراهیمؑ نے اپنی اولاد کے لئے مانگی تھی۔وہ دعا یہ ہے۔ 

*"رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ؕ "*

ہمارے پروردگار!ان میں سے ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہی میں سے ہو۔جو ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاکیزہ بنائے۔

*(سورۃ البقرۃ  آیت نمبر 129)*


اللہ تعالٰی نے ابراہیمؑ کی اس دعا کو قبول کرتے ہوئے حضورﷺ کو مبعوث فرمایا جیسا کہ زیر بحث آیت میں ذکر ہے۔ 

⚪ *"ہُوَ الَّذِیۡ  بَعَثَ فِی  الۡاُمِّیّٖنَ  رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ  یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ  اٰیٰتِہٖ  وَ  یُزَکِّیۡہِمۡ وَ  یُعَلِّمُہُمُ  الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ"*

وہی ہے جس امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں اور ان کو پاکیزہ بنایئں اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں۔

*(سورۃ  الجمعہ آیت نمبر 2)*

مبعوث تو آپﷺ عرب کے لوگوں میں ہوئے لیکن آپﷺ ہادی و برحق اور نبی و رسول قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک کی اور آیات سے بھی ظاہر ہے۔ 


⚪*"یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا"*

اے لوگو!میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا گیا رسول ہوں۔


*(سورۃ  الاعراف آیت نمبر 158)*


پس چونکہ آپﷺ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے رسول ہیں لہذا آپ کے زمانہ نبوت میں کسی نئے رسول یا نبی کی کوئی گنجائش نہیں۔ 


⚪جواب نمبر 2

 ‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ،قَالَ:‏‏‏‏"كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّﷺ، ‏‏‏‏‏‏فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ،قَالَ:‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُرَاجِعْهُ حَتَّى سَأَلَ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ؓ، ‏‏‏‏‏‏وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِﷺ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ،ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ "لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ۔"

"حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپﷺ پر سورہ جمعہ نازل ہوئی۔"وآخرین منھم لما یلحقو بھم " تو میں نے عرض کی کہ یارسول اللہﷺ  وہ کون ہیں؟ تو آپﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی۔حتی کہ تیسری بار سوال عرض کرنے پر آپﷺ  نے ہم میں بیٹھے ہوئے سلمان فارسی ؓ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو یہ لوگ (اہل فارس) اس کو پالیں گے۔"

*(بخاری حدیث نمبر 4897، کتاب التفسیر٬ باب یأتی من بعدی اسمه احمد٬ مسلم حدیث نمبر 6498، ترمذی حدیث نمبر 3310)*

اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل فارس کی ایک جماعت ہوگی جو اسلام کی تقویت کا باعث بنے گی۔ 

چنانچہ اس حدیث کے مصداق عجم و فارس میں بڑے بڑے محدثین،فقھاء،مفسرین،مجدین، صوفیاء اور اولیاء کرام پیدا ہوئے ہیں۔جو اسلام کی تقویت کا باعث بنے ہیں۔ 

اس حدیث نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ آپﷺ ہر حاضر اور غائب کے نبی ہیں اور قیامت تک جتنے بھی لوگ آیئں گے آپﷺ ان سب کے نبی ہوں گے۔مزید کسی نئے نبی کی گنجائش نہیں۔ 


⚪ جواب نمبر 3

امام رازیؒ جو مرزا قادیانی سے پہلے کے مفسر ہیں اور مرزا قادیانی نے ان کو عسل مصفی میں چھٹی صدی کا مجدد بھی تسلیم کیا ہوا  ہے وہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ 

ابن عباس ؓ اور مفسرین کی جماعت کہتی ہے کہ آخرین سے مراد عجمی ہیں(یعنی آپﷺ عرب و عجم کے لئے معلم و نبی ہیں )مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس سے تابعین مراد ہیں۔ 

سب اقوال کا حاصل یہ ہے کہ امیین سے عرب مراد ہیں اور آخرین سے مراد وہ تمام اقوام ہیں جو قیامت تک  اسلام میں داخل ہوں گی۔ 

(تفسیر کبیر جلد 3 صفحہ 4)*

لیجئے مرزا قادیانی کے تسلیم کئے گئے مفسرین کے مطابق اس آیت سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو قیامت تک اسلام میں داخل ہوں گے آپﷺ ان تمام لوگوں کے نبی ہیں۔ 


⚪ جواب نمبر 4

اس آیت کے بارے میں جو کچھ مرزے نے لکھا ہے مرزا اس کے مطابق بھی نبی ثابت نہیں ہوتے بلکہ "کذاب" ثابت ہوتے ہیں۔ 

آیئے مرزا قادیانی کی اس تحریر کا جائزہ لیتے ہیں جو مرزا سانپ نے  زیر بحث آیت کے متعلق لکھی ہے۔ 


🛑 مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ

 "خدا وہ ہے جس نے امیوں میں سے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے۔ اور انہیں کتاب اور حکمت سکھلاتا ہے اگرچہ پہلے وہ صریح گمراہ تھے۔ 

اور ایسا ہی وہ رسول جو ان کی تربیت کررہا ہے ایک دوسرے کی بھی تربیت کرے گا جو انہی میں سے ہوجایئں گے۔ 

گویا تمام آیت معہ اپنے الفاظ مقدرہ یوں ہے۔


*⚪ "ہُوَ الَّذِیۡ  بَعَثَ فِی  الۡاُمِّیّٖنَ  رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ  یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ  اٰیٰتِہٖ وَ  یُزَکِّیۡہِمۡ وَ  یُعَلِّمُہُمُ  الۡکِتٰبَ وَ  الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ  اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ  قَبۡلُ  لَفِیۡ ضَلٰلٍ  مُّبِیۡنٍ ۙ "*

یعنی ہمارے خالص اور کامل بندے بجز صحابہ کرام ؓ کے اور بھی ہیں۔ جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہوگا۔اور جیسے نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام ؓ کی تربیت فرمائی۔اسی طرح آنحضرتﷺ اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے۔ 

(آیئنہ کمالات اسلام صفحہ 208٬209 مندرجہ روحانی خزائن جلد  5 صفحہ 208،209)* 


🛑 مرزا قادیانی کی اس تحریر سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہویئں۔ 

1)اخیر زمانہ میں ایک گروہ کثیر پیدا ہوگا۔ 

2)وہ گروہ خالص اور کامل بندوں پر مشتمل ہوگا۔ 

3)اس گروہ کی باطنی طور پر تربیت خود آپﷺ فرمائیں گے۔ 


لیجئے مرزا قادیانی کی تحریر کے مطابق بھی آخرین کی تربیت خود حضورﷺ فرمائیں گے۔ 

نہ کہ کوئی ایسا شخص جو قادیان میں پیدا ہو اور خود کو نبی اور رسول کہتا ہو۔ 


🛑 خلاصہ 

پس ثابت ہوا کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ حضورﷺ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے نبی ہیں۔اب نہ کسی نئے نبی کی ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔ 


⚪ آیت نمبر 2

قادیانی قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے باطل استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے تمام انبیاء کرامؑ سے اور خود رسول اللہﷺ سے یہ عہد لیا تھا کہ سب انبیاء اور رسولوں کے بعد ایک رسول آئے گا۔اور تمام انبیاء کرامؑ کی زندگی میں اگر وہ رسول آگیا تو تمام انبیاء کرامؑ کو اس کی تصدیق اور مدد کرنی پڑے گی۔قادیانی کہتے ہیں کہ جس رسول کے آنے کی بات اس آیت میں ہورہی ہے اس سے مراد نعوذ باللہ مرزاقادیانی ہے۔   

آیئے پہلے آیات اور اس کا ترجمہ دیکھتے ہیں پھر قادیانیوں کے باطل استدلال کا علمی رد کرتے ہیں۔ 


⚪ *وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ  الشّٰہِدِیۡنَ۔*  

اور جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ: اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں،پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس (کتاب) کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے،تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے،اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔اللہ نے (ان پیغمبروں سے) کہا تھا کہ: کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے دی ہوئی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ انہوں نے کہا تھا:ہم اقرار کرتے ہیں ۔ اللہ نے کہا:تو پھر (ایک دوسرے کے اقرار کے) گواہ بن جاؤ،اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی میں شامل ہوں۔ 

*(سورۃ آل عمران آیت نمبر 81)*


⭕ اس کے علاوہ درج ذیل آیت بھی ہے۔ 


*"وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیۡثَاقَہُمۡ وَ مِنۡکَ وَ مِنۡ نُّوۡحٍ وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ۪ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ۙ "*

اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد رکھو جب ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا تھا اور تم سے بھی ، اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی۔اور ہم نے ان سے نہایت پختہ عہد لیا تھا۔ 

*(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 7)*

قادیانیوں کے اس باطل استدلال کے بہت سے جوابات ہیں۔ملاحظہ فرمائیں۔ 


⭕ جواب نمبر 1


اس آیت کی تفسیر خود مرزاقادیانی نے لکھی ہے اور اس تفسیر میں مرزاقادیانی نے آنے والے رسول سے مراد حضورﷺ کو لیا ہے۔ 


⭕ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 

"اور یاد کرجب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا ۔ اور پھر تمہارے پاس آخری زمانے میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا۔ اور اس کی مدد کرنی ہوگی۔

اب ظاہر ہے کہ انبیاءؑ تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہوگئے تھے۔یہ حکم ہر نبیؑ کی امت کے لئے ہے۔ کہ جب وہ رسول ظاہر ہوتو اس پر ایمان لاو۔ اب بتایئں میاں عبد الحکیم خان نیم ملا خطرہ ایمان!کہ اگر صرف توحید خشک سے نجات ہوسکتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے کیوں مؤاخذہ کرے گا جو گو آنحضرتﷺ پر ایمان نہیں لاتے مگر توحید باری تعالیٰ کے قائل ہیں۔ 

*(حقیقة الوحی صفحہ 130٬131 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 133،134)*

جب خود مرزاقادیانی نے اس آیت کی تفسیر میں آنے والے نبی سے مراد "محمدﷺ" کو لیا ہے۔تو پھر قادیانیوں کی تاویل تو خود ہی باطل ہوجاتی ہے۔ 


⚪ جواب نمبر 2

مرزا قادیانی سے پہلے کے تمام مفسرین کرام نے اس آیت میں "ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ" سے مراد حضورﷺ کی ذات اقدس کو لیا ہے۔ 

حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر یوں کی ہے۔ 

"مابعث اللہ نبیا من الانبیاء الا اخذ علیہ المیثاق لئن بعث اللہ محمدا وھو حئ لیئومنن بہ ولینصرنہ وآصرہ ان یاخذ المیثاق علی امتہ لئن بعث محمد وھم احیاء لیئومنن بہ ولینصرنہ" 

اللہ تعالٰی نے جس نبیؑ کو بھی مبعوث فرمایا اس سے یہ عہد لیا کہ اگر تمہاری زندگی میں اللہ تعالٰی نے نبی کریمﷺ کو مبعوث کیا تو ان پر ضرور ایمان لایئں اور ان کی مدد کریں ۔ اس طرح اللہ نے ہر اس نبیؑ کو حکم دیا کہ آپ اپنی امت سے پختہ عہد لیں۔ کہ اگر اس امت کے ہوتے ہوئے وہ نبی(آخرالزماںﷺ) تشریف لے آئیں تو وہ امت ضرور ان پر ایمان لائے اور ان کی مدد کرے۔ 

*(تفسیر ابن کثیر صفحہ 177 ،جامع البیان صفحہ 55)*


⭕ جواب نمبر 3


قادیانی کہتے ہیں کہ اس آیت میں رسول کا لفظ نکرہ ہے۔تو اس سے کیسے معرفہ مراد ہوسکتی ہے؟؟اسکا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے خود نکرہ کو معرفہ بناکر اس کی تخصیص کردی ہے۔ 

اس کے علاوہ درج ذیل آیات میں بھی رسول کا لفظ نکرہ ہے ۔

*1۔ ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا(الجمعہ آیت نمبر 4)*

*2۔ رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا (البقرۃ آیت نمبر 129)*

*3۔ لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ(التوبہ آیت 128)*

اگر ان آیات میں نکرہ میں تخصیص کرکے رسول کو  معرفہ بنایا جاسکتا ہے تو ہماری زیر بحث آیت میں رسول کو معرفہ کیوں نہیں بنایا جاسکتا؟؟ 


⭕ "خلاصہ کلام"

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہماری زیر بحث آیت میں جس نبی کے آنے کے بارے میں تمام انبیاء کرامؑ سے وعدہ لیا جارہا ہے۔ وہ نبی حضرت محمد مصطفیﷺ ہیں۔ 

اس بات کو 14 صدیوں کے تمام مفسرین کرام نے بیان کیا ہے۔اور خود مرزاقادیانی نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ 

پس ثابت ہوا کہ قادیانیوں کی تاویل باطل ہے۔ 


⭕ آیت نمبر 3"

قادیانی اجرائے نبوت کے موضوع پر قرآن مجید کی ایک اور آیت پیش کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اس آیت میں ذکر ہے کہ ایمان والوں کی ایک نشانی بیان ہوئی ہے کہ وہ حضورﷺ کے بعد آنے والے نبی پر ایمان رکھتے ہیں۔پس پتہ چلا کہ حضورﷺ کے بعد بھی نبی آسکتے ہیں۔ 

آیئے پہلے آیت اور اس کا ترجمہ دیکھتے ہیں اور پھر قادیانیوں کے باطل استدلال کا علمی رد کرتے ہیں۔ 


⭕ "آیت"

*"ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ "*

"ترجمہ "

"اور آخرت پر وہ مکمل یقین رکھتے ہیں"


⚪جواب نمبر 1

اس آیت میں حضورﷺ کے بعد کسی نئے نبی پر ایمان لانے کا بیان نہیں ہورہا بلکہ قیامت کے دن پر ایمان لانے کا بیان ہورہا ہے۔ 

اس کی دلیل یہ ہے کی اگر اس آیت کی تفسیر القرآن بالقرآن کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ قیامت کے دن پر ایمان کو اس آیت میں بیان کیا جارہا ہے۔جیسا کہ درج ذیل آیت ہماری زیر بحث آیت کی تفسیر القرآن بالقرآن ہے۔ 

*"وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ  لَہِیَ الۡحَیَوَانُ"*

"اور حقیقت یہ ہے کہ دار آخرت ہی اصل زندگی ہے"

اس آیت سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ آخرت سے مراد قیامت اور قیامت  کے بعد کی زندگی ہے۔ 


⚪ جواب نمبر 2


قرآن پاک میں 50 سے زائد مرتبہ آخرت کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ہرجگہ آخرت کے لفظ سے قیامت اور قیامت کے بعد کی زندگی مراد ہے۔ لہذا قرآن کے اسلوب کے مطابق ہماری زیر بحث آیت میں بھی قیامت اور قیامت  کے بعد یعنی آخرت کی زندگی مراد ہے۔ 


⚪ جواب نمبر 3

اس آیت سے مرزاقادیانی نے بھی آخرت کی زندگی مراد لی ہے۔

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 

طالب نجات وہ ہے جو خاتم النبیین پیغمبر آخرالزمانﷺ پر جو کچھ اتارا گیا اس پر ایمان لائے۔ *وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ۔* اور طالب نجات وہ ہے جو پچھلی آنے والی گھڑی یعنی قیامت پر یقین رکھے اور جزا اور سزا کو مانتا ہو"

*(تفسیرمرزا غلام احمد قادیانی جلد 2 صفحہ 75، الحکم 10 اکتوبر 1904ء)*

مندرجہ بالا حوالے میں مرزاقادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ آخرت سے مراد قیامت اور قیامت کے بعد کی زندگی ہے۔لہذا قادیانیوں کا باطل استدلال ان کے گرو مرزاقادیانی کے نزدیک بھی باطل ہے۔ 


⚪ جواب نمبر 4

قادیانیوں کے پہلے خلیفہ حکیم نورالدین نے بھی آخرت سے مراد آخرت کی گھڑی لی ہے۔ 


(البدر 4 فروری 1909ء)


⚪خلاصہ کلام 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قادیانیوں کا اس آیت سے کیا گیا استدلال خود مرزاقادیانی اور حکیم نورالدین کے نزدیک بھی باطل ہے اور آخرت سے مراد قیامت اور قیامت کے بعد کی زندگی ہے۔ 


⚪ آیت نمبر 4


*"ذٰلِکَ بِاَنَّ  اللّٰہَ  لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا  نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا"*

"یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اس نے جو نعمت کسی قوم کو دی ہو۔"

*(سورۃ الانفال آیت نمبر 53)*

قادیانی اس آیت سے باطل استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبوت اللہ تعالٰی کی نعمت ہے۔اور امت محمدیہﷺ اس نبوت والی نعمت  سے کیوں محروم ہوسکتی ہے۔ 

قادیانیوں کے اس باطل استدلال کے بہت سے جوابات ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں ۔ 

⚪ جواب نمبر 1

جس طرح نبوت اللہ تعالٰی کی نعمت ہے اسی طرح شریعت بھی اللہ تعالٰی کی نعمت ہے۔ پس اگر قادیانیوں کے نزدیک شریعت والی نعمت ختم ہوسکتی ہے تو بغیر شریعت کے نعمت کیوں ختم نہیں ہوسکتی۔ 

(یاد رہےقادیانی کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد شریعت والا نبی نہیں آسکتا)

جواب نمبر 2

اگر نبوت کو قادیانی نعمت سمجھتے ہیں تو پھر اس نعمت کو مرزاقادیانی  کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے تھا حالانکہ قادیانی مرزاقادیانی کے بعد نبوت کو بند سمجھتے ہیں۔ اگر قادیانیوں کے نزدیک نبوت نعمت ہے تو مرزاقادیانی کے بعد کیوں بند ہے؟ 

⚪ جواب نمبر 3

ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ نبوت کی تکمیل ہوچکی ہے۔جس طرح سورج کے نکلنے کے بعد کسی چراغ کی ضرورت نہیں رہتی اسی طرح حضورﷺ کی تشریف آوری کے بعد کسی بھی قسم کی نئی نبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

چنانچہ قرآن مجید میں اسلام کے بارے میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے۔ 

*"تُؤۡتِیۡۤ  اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ  بِاِذۡنِ رَبِّہَا"*

"اپنے رب کے حکم سے وہ ہر آن پھل دیتا ہے"

*(سورۃ ابراہیم آیت نمبر 25)* 

یعنی شجرہ اسلام قیامت تک سرسبز و شاداب اور فیضان رساں رہے گا۔اسلام کا فیضان قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ 

پس اللہ تعالٰی نے خود بتادیا کہ اسلام کا فیضان قیامت تک منقطع نہیں ہوگا تو اس اس سے نئے نبی کی گنجائش خودبخود ہی ختم ہوجاتی ہے۔ 

🛑 خلاصہ کلام

نبوت ایک نعمت ہے لیکن حضورﷺ کے تشریف لانے سے اس نعمت کی تکمیل ہوچکی ہے۔ اور حضورﷺ کی نبوت ایسی کامل نبوت ہے کہ اب تاقیامت حضورﷺ کی نبوت ہی چلے گی۔

Comments