عقیدہ ختم نبوت سبق 5

 ادارہ فہم خاتم النبیینﷺ کورس

           *بسم الله الرحمن الرحيم*

*"سبق نمبر 5 کا مختصر تعارف"* 

آج کے اس سبق میں ان شاءاللہ ہم سمجھیں گے.. 

👇👇👇👇👇👇👇

تحریک تحفظ ختم نبوت حصہ دوم

⚪  *نبی کسے کہتے ہیں؟*

⭐ *رسول کسے کہتے ہیں؟*

👈 *قادیانیوں کے نزدیک نبوت کی کتنی اقسام ہیں؟*

⭕ *تشریعی ، ظلی، بروزی نبوت کی حقیقت*

🚨 *قادیانیوں کے نزدیک نبوت کا معیار

ادارہ فہم خاتم النبیین کورس

               *"سبق نمبر 5"*

⭕  تحریک تحفظ ختم نبوت حصہ دوم

⚪     تحریک ختم نبوت 1953ء

ہندوستا ن تقسیم ہوا، خدادداد مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی، بدنصیبی سے اسلامی مملکت پاکستان کا وزیر خارجہ چودھری سر ظفراللہ خان قادیانی کو بنایا گیا۔ اس نے مرزائیت کے جنازہ کو اپنی وزرات کے کندھوں پر لاد کر اندرون و بیرون ملک اسے متعارف کرانے کی کوشش تیز سے تیز ترکردی، ان حالات میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امیر کاروان احرار کی رگ حمیت اور حسینی خون نے جوش مارا، پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، مجاہد اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ آپ کا پیغام لے کر ملک عزیز کی نامور دینی شخصیت اور ممتاز عالم دین اسلام مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کے دروازے پر گئے اور اس تحریک کی قیادت کا فریضہ انہوں نے ادا کیا۔ مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ، مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا پیر غلام محی الدین گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالحامد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا پیر سر سینہ شریف رحمۃ اللہ علیہ، آغا شورش کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ، ماسٹر تاجدین انصاری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ حسام الدین رحمۃ اللہ علیہ، مولانا صاحبزادہ سید فیض الحسن رحمۃ اللہ علیہ، مولانا اختر علی خاں رحمۃ اللہ علیہ، غرضیکہ کراچی سے لے کر ڈھاکہ تک کے تمام مسلمانوں نے اپنی مشترکہ آئینی جدوجہد کا آغاز کیا۔ بلاشبہ برصغیر کی یہ عظیم ترین تحریک تھی۔ جس میں دس ہزار مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ایک لاکھ مسلمانوں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ دس لاکھ مسلمان اس تحریک سے متاثر ہوئے۔ ہر چند کہ اس تحریک کو مرزائی اور مرزائی نواز اوباشوں نے سنگینوں کی سختی سے دبانے کی کوشش کی مگر مسلمانوں نے اپنی ایمانی جذبہ سے ختم نبوت کے اس معرکہ کو اس طرح سر کیا کہ مرزائیت کا کفر کھل کر پوری دنیا کے سامنے آگیا۔ تحریک کے ضمن میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ مرتب کرنا شروع کی۔ عدالتی کاروائی میں حصہ لینے کی غرض سے علماء اور وکلا کی تیاری، مرزائیت کی کتب کے اصل حوالہ جات کو مرتب کرنابڑاکٹھن مرحلہ تھا اور ادھر حکومت نے اتنا خوف و ہراس پھیلا رکھا تھاکہ تحریک کے رہنماؤں کو لاہور میں کوئی آدمی رہائش تک دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ جناب عبدالحکیم احمد سیفی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ مجاز خانقاہ سراجیہ نے اپنی عمارت 7 بیڈن روڈ لاہور کو تحریک کے رہنماؤں کے لیے وقف کردیا۔ تمام تر مصلحتوں سے بالائے طاق ہو کر ختم نبوت کے عظیم مقصد کے لیے ان کے ایثار کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالرحیم اشعر رحمۃ اللہ علیہ اور رہائی کے بعد مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا قاضی احسان احمدشجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے رہنماؤں نے آپ کے مکان پر انکوائری کے دوران قیام کیا اور مکمل تیاری کی۔ ان ایام میں شیخ المشائخ قبلہ حضرت مولانا محمد عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ بھی وہیں قیام پذیر رہے اور تمام کام کی نگرانی فرماتے رہے۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے گرامی قدر رفقاء مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالرحمن میانوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد شریف بہاولپوری رحمۃ اللہ علیہ، سائیں محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ اور مرزا غلام نبی جانباز رحمۃ اللہ علیہ کا یہ عظیم کارنامہ تھا کہ انہوں نے الیکشنی سیاست سے کنارہ کش ہو کر خالصتاً دینی و مذہبی بنیاد پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی بنیاد رکھی۔ اس سے قبل مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ، چوہدری افضل حق رحمۃ اللہ علیہ اور خود حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے قادیانیت کو جو چرکے لگائے وہ تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ قادیان میں کانفرنس کر کے چور کا اس کے گھر تک تعاقب کیا۔ نیز مولانا ظفر علی خاں رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر و تقریر کے ذریعہ ردِّمرزائیت میں غیر فانی کردار ادا کیا۔ مجلس احرار اسلام کی کامیاب گرفت سے مرزائیت بوکھلا اٹھی، مجلس احراراسلام پر مسجد شہید گنج کا ملبہ گرا کر اسے دفن کرنے کی کوشش کی گئی۔حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ صدر مجلس احرار نے ایک موقعہ پر ارشادفرمایا کہ تحریک مسجد شہید گنج کے سلسلہ میں پورے ملک سے دو اکابر اولیاء اللہ ایک حضرت اقدس مولانا ابوالسعد احمد خاں رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے ہماری رہنمائی کی اور تحریک سے کنارہ کش رہنے کا حکم فرمایا، حضرت اقدس ابوالسعد احمد خاں رحمۃ اللہ علیہ بانی خانقاہ سراجیہ نے یہ پیغام بھجوایا تھاکہ مجلس احرار تحریک مسجد شہید گنج سے علیحدہ رہے اور مرزائیت کی تردیدکا کام رکنے نہ پائے اسے جاری رکھا جائے اس لیے اگر اسلام باقی رہے گا تو مسجدیں باقی رہیں گی، اگر اسلام باقی نہ رہا تو مسجدوں کو باقی کون رہنے دے گا؟

مسجد شہید گنج کے ملبہ کے نیچے مجلس احرار کو دفن کرنے والے انگریز اور قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس لیے کہ انگریز کو ملک چھوڑنا پڑا جبکہ مرزائیت کی تردید کے لئے مستقل ایک جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام سے تشکیل پا کر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوارہی ہے۔ ان حضرات نے سیاست سے علیحدگی کا محض اس لئے اعلان کیا کہ کسی کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ مرزائیت کی تردید اور ختم نبوت کی ترویج کے سلسلہ میں ان کے کوئی سیاسی اغراض ہیں۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے مرزائیت کے خلاف ایسا احتسابی شکنجہ تیار کیا کہ مرزائیت مناظرہ، مباہلہ، تحریر و تقریر اور عوامی جلسوں میں شکست کھاگئی۔ جگہ جگہ ختم نبوت کے دفاتر قائم ہونے لگے، مولانا لال حسین اختررحمۃاللہ علیہ نے برطانیہ سے آسٹریلیا تک قادیانیت کا تعاقب کیا۔ مرزائیت نے عوامی محاذ ترک کرکے حکومتی عہدوں اور سرکاری دفاتر میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش و کاوش کی اور وہ انقلاب کے ذریعہ اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔


⭕ تحریک ختم نبوت1974ء

1970ء کے الیکشن میں چند سیٹوں پر مرزائی منتخب ہوگئے۔ اقتدار کے نشہ اور ایک سیاسی جماعت سے سیاسی وابستگی نے انہیں دیوانہ کردیا۔ وہ حالات کو اپنے لیے سازگار پا کر انقلاب کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کی سکیمیں بنانے لگے۔ قادیانی جرنیلوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردیں۔ اس نشہ میں دھت ہو کر انہوں نے 29مئی 1974ء کو ربوہ ریلوے سٹیشن پر چناب ایکسپریس کے ذریعہ سفر کرنے والے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں تحریک چلی۔ مولاناسید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر تھے۔ ان کی دعوت پر امت کے تمام طبقات جمع ہوئے۔ آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان تشکیل پائی۔ جس کے سربراہ حضرت شیخ بنوری رحمۃاللہ علیہ قرار پائے۔ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش نصیبی کہ اس وقت قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن متحد تھی۔ چنانچہ اپوزیشن پوری کی پوری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شریک ہوگئی۔

رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا اعجاز ملاحظہ ہو کہ مذہبی و سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر ایک ہی نعرہ لگایا کہ مرزائیت کو غیر مسلم قرارد یا جائے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودرحمۃ اللہ علیہ، مولاناغلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالحق، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالمطفی ازہری، مولانا عبدالحکیم رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے رفقا نے ختم نبوت کی وکالت کی۔ متفقہ طور پر اپوزیشن کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ نے مرزائیوں کے خلاف قرار داد پیش کی اور برسر اقتدار جماعت پیپلز پارٹی یعنی حکومت کی طرف سے دوسری قرار داد جناب پیر عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کی جو ان دنوں وزیر قانون تھے، قومی اسمبلی میں مرزائیت پربحث شرو ع ہوگئی۔ پورے ملک میں مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، نوابزادہ نصراللہ خان رحمۃ اللہ علیہ، آغا شورش کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ، علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالقادر روپڑی رحمۃ اللہ علیہ، مفتی زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ، مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد شریف جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالستار خان نیازی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن، سید مظفر علی شا ہ رحمۃ اللہ علیہ، مولانا علی غضنفر کراروی، مولانا عبدالحکیم رحمۃ اللہ علیہ، پیر شریف، حضرت مولانا محمد شاہ امروٹی رحمۃ اللہ علیہ، غرضیکہ چاروں صوبوں کے تمام مکاتب فکر نے تحریک کے الاؤ کو ایندھن مہیا کیا۔ اخبارات و رسائل نے تحریک کی آواز کوملک گیر بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو دباؤ بڑھتا گیا۔ ادھر قومی اسمبلی میں قادیانی و لاہوری گروپوں کے سربراہوں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ ان کا جواب اور امت مسلمہ کا موقف مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ، مولانا سمیع الحق، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا سید انور حسین نفیس رقم نے مرتب کیا۔ اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے چودھری ظہور الٰہی کی تجویز اور دیگر تمام حضرات کی تائید پر قرعہ فال مولانا مفتی محمود رحمۃا للہ علیہ کے نام نکلا۔ جس وقت انہوں نے یہ محضر نامہ پڑھا، قادیانیت کی حقیقت کھل کراسمبلی کے ارکان کے سامنے آگئی۔ مرزائیت پر اوس پڑگئی۔ نوے دن کی شب و روز مسلسل محنت و کاوش کے بعد جناب ذوالفقارعلی بھٹو کے عہد اقتدار میں متفقہ طور پر 7 ستمبر 1974ء کو نیشنل اسمبلی آف پاکستان نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی پیش کردہ قرار داد کومنظور کیا اور مرزائی آئینی طور غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ الحمد اللہ رب العالمین حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا ویرضی


⭕ تحریک ختم نبوت1984ء

17 فروری 1983ء کومولانا محمد اسلم قریشی مبلغ تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کو مرزائی سربراہ مرزا طاہر کے حکم پر مرزائیوں نے اغوا کیا۔ جس کے ردعمل میں پھر تحریک منظم ہوئی۔ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد اس وقت تک مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کا بوجھ میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔ اس لیے آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی امارت بھی فقیر کے حصہ میں آئی۔ اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ فضل ہے جس سے جناب محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سلسلہ میں امت محمدیہ کے تمام طبقات کو اتفاق و اتحاد نصیب کر کے ایک لڑی میں پرودیا اور یوں 26 اپریل 1984ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس صدر مملکت جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے ہاتھوں جاری ہوا۔ قادیانیت کے خلاف آئینی طور پر جتنا ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہوا لیکن جتنا ہوا اتنا آج تک کبھی نہیں ہوا تھا۔ آج اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بن چکی ہے اور چار دانگ عالم میں رحمۃا للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے پھریرے کو بلند کرنے کی سعادتوں سے بہرہ ور ہورہی ہے۔ دنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام وسیع سے وسیع ترہورہا ہے۔


⭕ عقیدہ ختم نبوتﷺ پر قادیانی دھوکہ اور ظلی بروزی نبوت کی بحث"*


مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ نبوت کی 2 قسمیں ہیں۔ 

*1)* نبی 

*2)* رسول 


⚪*"نبی"*

نبی اس کو کہتے ہیں جو پرانے نبی کی کتاب اور شریعت پر عمل کرے۔ 


⚪*"رسول"*

رسول اس نبی کو کہتے ہیں جو نئی کتاب اور نئی شریعت لے کر آئے۔ 


کبھی کبھار قادیانی کہتے ہیں کہ نبی اور رسول کی جو تعریف آپ کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ نبی اور رسول کا یہی فرق جو ہم بیان کرتے ہیں٬وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے بھی لکھا ہے۔ملاحظہ فرمایئں:


*"دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی گزرے ہیں جن میں شریعت لانے والے رسول صرف 315 تھے۔"*

*(ختم نبوت کی حقیقت صفحہ 106)*

ختم نبوت پر ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ نبیوں اور رسولوں کی تعداد حضورﷺ پر مکمل ہوچکی ہے۔اب تاقیامت کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ 


جبکہ قادیانی نبوت کی 3 اقسام مانتے ہیں۔ 

⭕*1)* تشریعی نبوت 

⭕*2)* غیر تشریعی نبوت 

⭕*3)* ظلی نبوت 

                  ⭕*"تشریعی نبوت"*

قادیانی کہتے ہیں کہ نئی شریعت کے ساتھ جو نبوت ہے اس کو تشریعی نبوت کہتے ہیں۔ 


                ⭕*"غیر تشریعی نبوت"*

قادیانی کہتے ہیں کہ بغیر شریعت کے ساتھ جو نبوت ملتی ہے اس کو غیر تشریعی نبی کہتے ہیں۔ 

               ⭕*"ظلی نبوت"*

قادیانی کہتے ہیں کہ حضورﷺ کی اتباع سے جو نبوت ملتی ہے اس کو ظلی نبوت کہتے ہیں۔ 

قادیانیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ تشریعی اور غیر تشریعی نبیوں کی تعداد تو حضورﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوچکی ہے جبکہ ظلی نبوت کا دروازہ تاقیامت کھلا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ظلی نبوت صرف مرزاقادیانی کو ملی ہے۔ 

*(کلمتہ الفصل صفحہ 112)*


         ⭕*"قادیانیوں سے ایک سوال"*

 دعوی جب خاص ہوتو دلیل بھی خاص ہوتی ہے۔آپ قادیانیوں نے نبوت کی تیسری قسم یعنی ظلی نبوت کو ایک مستقل نبوت قرار دیا ہے۔ 

ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ سب سے پہلے تو ہمیں قرآن اور حدیث سے وہ دلائل بتایئں جن سے پتہ چلے کہ شریعت والی نبوت بھی بند ہے اور بغیر شریعت کے نبوت بھی بند ہے۔ 

اور سب سے آخر میں ہمیں قرآن اور حدیث سے وہ دلائل بتایئں جہاں لکھا ہوکہ شریعت اور بغیر شریعت کے نبوت کا دروازہ تو بند ہے لیکن ظلی نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ 


قیامت تو آسکتی ہے لیکن قادیانی قیامت کی صبح تک کوئی قرآن کی آیت یا کوئی ایک حدیث بھی ایسی پیش نہیں کر سکتے جہاں یہ لکھا ہوکہ حضورﷺ کے آنے سے شریعت والے اور بغیر شریعت والے نبیوں کی تعداد تو مکمل ہوچکی ہے لیکن ظلی نبی تاقیامت آسکتے ہیں۔ 

قادیانی قیامت تک اپنے من گھڑت دعوی پر دلیل نہیں پیش کر سکتے۔ 

*ھاتو برھانکم ان کنتم صدقین*


                ⭕*"ظلی نبوت"*

قادیانی کہتے ہیں کہ ظل سائے کو کہتے ہیں اور مرزاقادیانی نے حضورﷺ کی اتنی کامل اتباع کی کہ مرزاقادیانی نعوذ باللہ حضورﷺ کا ظل بن گیا۔اور ظلی نبی بن گیا۔لیکن یہ قادیانیوں کا  دھوکہ ہے۔ قادیانی دراصل مرزاقادیانی کو نعوذباللہ حضورﷺ جیسا بلکہ نعوذباللہ حضورﷺ سے بڑھ کر درجہ دیتے ہیں۔ 

آیئے قارئین مرزاقادیانی کی کی ایک تحریر کا جائزہ لیتے ہیں جہاں مرزاقادیانی ظل اور اصل کی وضاحت کر رہا ہے۔ 

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 

"خدا ایک اور محمدﷺ اس کا نبی ہے۔اور وہ خاتم الانبیاء ہے۔اور سب سے بڑھ کر ہے۔اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں۔مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔ 

جیسا کہ تم آیئنہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہوسکتے بلکہ ایک ہی ہو۔ اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں۔صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔" 

*(کشتی نوح صفحہ 15 مندرجہ  روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 16)*


معزز قارئین مرزاقادیانی کا کفر یہاں ننگا ناچ رہا ہے مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ میں ظلی طور پر محمد ہوں اس کا مطلب ہے کہ نعوذباللہ اگر آیئنے میں حضورﷺ کو دیکھا جائے تو وہ مرزاقادیانی نظر آئیں گے۔اور جو مرزاقادیانی آیئنے میں نظر آرہا ہے وہ مرزاقادیانی نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ حضورﷺ ہیں۔ 


اگر دونوں ایک ہی ہیں تو پھر ظل اور بروز کی ڈھکوسلہ بازی کیوں کرتے ہو؟؟؟ یہ تو صرف لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور کچھ نہیں۔ 

اب مرزاقادیانی کے ظل اور بروز کے فلسفے کو مرزاقادیانی کی ہی تحریرات سے باطل ثابت کرتے ہیں۔ 


*1)* مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 


"نقطہ محمدیہ ایسا ہی ظل الوہیت کی وجہ سے مرتبہ الہیہ سے اس کو ایسی ہی مشابہت ہے جیسے آیئنے کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے۔اور امہات صفات الہیہ یعنی حیات،علم،ارادہ، قدرت، سمع ،بصر کلام مع اپنے جمیع فروع کےاتم و اکمل طور پر اس(آنحضرتﷺ) میں انعکاس پذیر ہیں۔"

*(سرمہ چشم آریہ صفحہ 224 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 224)*


*2)* مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 


"حضرت عمر ؓ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجنابﷺ کا ہی وجود تھا۔"

*(ایام الصلح صفحہ 35 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265)*


*3)* مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 


"خلیفہ دراصل رسول کا ظل ہوتا ہے۔"

*(شہادة القرآن صفحہ 57 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 353)*


مرزاقادیانی کے اگر ظل اور بروز کے فلسفے کو تسلیم کرلیں تو پھر حضورﷺ کو بھی خدا تسلیم کرنا پڑے گا۔اور حضرت عمر ؓ اور تمام خلفائے راشدین ؓ کو رسول تسلیم کرنا پڑے گا۔ 


کیا کوئی قادیانی ایسا ایمان رکھتا ہے کہ حضورﷺ خدا ہیں اور حضرت عمر ؓ اور تمام خلفائے راشدین ؓ رسول ہیں؟؟


اگر مرزاقادیانی کے فلسفے کے مطابق حضورﷺ خدا کے ظل ہوکر بھی خدا نہیں ہوسکتے اور حضرت عمر ؓ اور دیگر خلفاء رسول اللہﷺ کے ظل ہوکر بھی رسول نہیں ہوسکتے تو مرزاقادیانی کیسے نبی اور رسول ہوسکتا ہے؟؟ 


ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ظلی اور بروزی نبوت کی اصطلاح صرف لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ہے۔ حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ 


🚨*"قادیانیوں کے نزدیک معیار نبوت"*

نبوت کا معیار ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔ 


حضرت ابو سفیان ؓ زمانہ جاہلیت میں تجارتی سفر پرروم گئے۔اور قیصر روم نے انہیں  اپنے دربار میں بلاکر سوال پوچھے جن میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ جنہوں نے نبوت کا دعوی کیا ہے ان کا خاندان کیسا ہے؟؟ 


حضرت ابوسفیان ؓ نے جواب دیا تھا کہ وہ عالی نسب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ 


قیصر روم نے اس پر یوں تبصرہ کیا تھا کہ انبیاء عالی نسب قوموں سے ہی مبعوث کئے جاتے ہیں۔ 

*(بخاری:حدیث نمبر 7 ، باب کیف جانب کان بدؤالوحی الی رسول اللہﷺ)*


نبی کا عالی نسب خاندان سے مبعوث ہونا ایسی بات ہےجس پر کافروں کو بھی اتفاق ہے لیکن مرزا قادیانی جیسے بدترین کافر کے نزدیک چور ،زانی ، بدکار ،ذلیل و کمینے بھی نبی ہوسکتا ہے۔


مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ

"ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے۔اور ان کے پائخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے۔ اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہوکر اس کی رسوائی ہوچکی ہے۔اور چند سال جیل خانہ میں  قید بھی رہ چکا ہے۔ 

اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں۔اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ 

اب خدا تعالٰی کی قدرت پر خیال کرکے ممکن توہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہوکر مسلمان ہوجائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالٰی کا ایسا فضل اس پرہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لےکر آوے۔ اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اسے جہنم میں ڈالے گا۔لیکن باوجود اس امکان کے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔"

*(تریاق القلوب صفحہ 67,68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 280)*


Comments