عقیدہ ختم نبوت سبق 4
*بسم الله الرحمن الرحيم*
فہم خاتم النبیینﷺکورس
*"سبق نمبر 4 کا مختصر تعارف"*
آج کے اس سبق میں ان شاءاللہ ہم سمجھیں گے..
👇👇👇👇👇👇👇
⚪ تحریک ختم نبوت اردو میں (حصہ اول)
تحریک تحفظ ختم نبوت انگلش میں مکمل سبق ہوگا
⭐ اجماع کسے کہتے ہیں
⭕ عقیدہ ختم نبوتﷺ کا صحابہ کرام ؓ کے اجماع اور امت کے اجماع سے ثبوت*
🚨 مسئلہ ختم نبوت پر امت کا سب سے پہلا اجماع کب منعقد ہوا؟*
👈 *عقیدہ ختم نبوتﷺ کا تواتر سے ثابت ہونا*
👈 *عقیدہ ختم نبوتﷺ کی وجہ سے قرآن پاک کی حفاظت کا اللہ تعالٰی نے وعدہ فرمایا*
ادراہ فہم خاتم النبیینﷺکورس
*سبق نمبر 4*
⚪ تحریک تحفظ ختم نبوت (حصہ اول)
⚪عقیدہ ختم نبوتﷺ ازروئے اجماع صحابہ ؓ و اجماع امت"*
⭕ (5)ختم نبوت کی تحریکیں*
متحدہ ہندوستان میں انگریز اپنے جوروستم اور استبدادی حربوں سے جب مسلمانوں کے قلوب کو مغلوب نہ کرسکا تو اس نے ایک کمیشن قائم کیا جس نے پورے ہندوستان کا سروے کیا اورواپس جا کر برطانوی پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کی کہ مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہادمٹانے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص سے نبوت کا دعویٰ کرایا جائے جو جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو مسلمانوں پر اولوالامر کی حیثیت سے فرض قرار دے۔
ان دنوں مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ ڈی سی آفس میں معمولی درجہ کاکلرک تھا۔ اردو، عربی اور فارسی اپنے گھر میں پڑھی تھی۔ مختاری کا امتحان دیا مگر ناکام ہوگیا۔ غرضیکہ اس کی تعلیم دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے ناقص تھی۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے انگریزی ڈپٹی کمشنر کے توسط سے مسیحی مشن کے ایک اہم اور ذمہ دار شخص نے اس سے ڈی سی آفس میں ملاقات کی۔ گویا یہ انٹرویو تھا مسیحی مشن کااور ساتھ ہی یہ فرد انگلینڈ روانہ ہوگیااور مرزا قادیانی ملازمت چھوڑکر قادیان پہنچ گیا۔ با پ نے کہا کہ نوکری کی فکرکرو، جواب دیا کہ میں نوکر ہوگیا ہوں اور پھر بغیر مرسل کے پتہ کے منی آرڈر ملنے شروع ہوگئے۔ مرزا قادیانی نے مذہبی اختلافات کو ہوا دی۔ بحث و مباحثہ، اشتہار بازی شروع کردی۔ یہ تمام تر تفصیل مرزائی کتب میں موجود ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کام کے لئے برطانوی سامراج نے مرزا قادیانی کا کیوں انتخاب کیا۔ اس کا جواب خود مرزائی لٹریچر میں موجود ہے کہ مرزا قادیانی کا خاندان جدی پشتی انگریز کا نمک خوار خوشامدی اور مسلمانوں کا غدار تھا۔ مرزا قادیانی کے والدنے 1857ء کی جنگ آزادی میں برطانوی سامراج کو پچاس گھوڑے بمعہ سازو سامان مہیاکیے اور یوں مسلمانوں کے قتل عام سے اپنے ہاتھ رنگین کر کے انگریز سے انعام میں جائیداد حاصل کی۔ مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکار میں مصروف رہا۔ ستارہ قیصریہ صفحہ 4 میں اپنے بارے میں لکھتا ہے کہ میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گذرا اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھرسکتی ہیں (تریا ق القلوب صفحہ25)۔غرضیکہ مرزا قادیانی کے گوشت پوست میں انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں سے غداری رچی بسی تھی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ اس مقصد کے لئے انگریز کی نظر انتخاب مرزا قادیانی پر پڑی اور اس کی خدمات حاصل کی گئیں۔جن حضرات کی مرزائیت کے لٹریچر پر نظرہے وہ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ہر بات میں تضاد ہے لیکن حرمت جہاد اور فرضیت اطاعت انگریز ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں مرزا قادیانی کی کبھی دورائیں نہیں ہوئیں کیونکہ یہ اس کا بنیادی مقصد اور غرض و غایت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا قرار دیا۔ سرسید احمد خان مرحوم کی روایت جو ان کے مشہور مجلہ تہذیب الاخلاق میں چھپ چکی ہے کہ خود سرسید احمد خان سے انگریز وائسرائے ہند نے مرزا قادیانی کی امداد و اعانت کرنے کا کہا۔ بقول ان کے انہوں نے نہ صرف رد کردیا بلکہ اس منصوبہ کا راز افشاکردیا جس کے نتیجہ میں انگریز وائسرائے سرسید احمد خاں سے ناراض ہوگئے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ جات پر نظر ڈالیے۔ اس نے بتدریج خادم اسلام، مبلغ اسلام، مجدد، مہدی، مثیل مسیح، ظلی نبی، مستقل نبی، انبیاء سے افضل حتیٰ کہ خدائی تک کا دعویٰ کیا۔ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبہ، گہری چال اور خطر ناک سازش کے تحت کیا۔ قطب عالم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نور ایمانی اور بصیرت وجدانی سے مرزا قادیانی کے دعویٰ سے بہت پہلے پنجاب کے معروف روحانی بزرگ حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃاللہ علیہ سے حجاز مقدس میں ارشاد فرمایا کہ پنجاب میں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے خلاف آپ سے کام لیں گے۔ بیعت و خلافت سے سرفراز فرمایااور اس فتنہ کے خلاف کام کرنے کی تلقین فرمائی۔
ردقادیانیت کے سلسلہ میں امت محمدیہ کے جن خوش نصیب و خوش بخت حضرات نے بڑی تندہی اورجانفشانی سے کام کیا۔ ان میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمدحسین بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ، جناب مولانا قاضی حمد سلیمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری رحمۃ اللہ علیہ، حصرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ،پروفیسر محمد الیاس برنی رحمۃ اللہ علیہ،علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سیدمحمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد داؤد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا ظفر علی خان رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مظہر علی اظہر رحمۃ اللہ علیہ، حافظ کفایت حسین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا پیرجماعت علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
علمائے لدھیانہ نے مرزا قادیانی کی گستاخ و بے باک طبیعت کو اس کی ابتدائی تحریروں میں دیکھ کر اس کے خلاف کفر کا فتویٰ سب سے پہلے دیا تھا۔ ان حضرات کاخدشہ صحیح ثابت ہوا اور آگے چل کر پوری امت نے علمائے لدھیانہ کے فتویٰ کی تصدیق و توثیق کی۔غرضیکہ پوری امت کی اجتماعی جدوجہد سے مرزائیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کی کوشش کی گئی یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا نذیر حسین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ،مولانا سید علی الحائری رحمۃ اللہ علیہ سمیت امت کے تمام طبقات کو اپنے سب و شتم کانشانہ بنایاکیونکہ یہی وہ حضرات تھے جنہوں نے تحریر و تقریر و مناظرہ و مباہلہ کے میدان میں مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کوچاروں شانے چت کیا اور یوں اپنے فرض کی تکمیل کر کے پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق قرارپائے۔
⭕ مقدمہ بہاولپور:
تحصیل احمد پور شرقیہ ریاست بہاولپور میں ایک شخص مسمی عبدالرزاق مرزائی ہو کر مرتد ہوگیا اس کی منکوحہ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش نے سن بلوغ کو پہنچ کر 24جولائی 1926ء کو فسخ نکاح کا دعویٰ احمد پور شرقیہ کی مقامی عدالت میں دائر کردیا جو 1931ء تک ابتدائی مراحل طے کر کے پھر 1932ء میں ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کی عدالت میں بغرض شرعی تحقیق واپس ہوا۔ آخر کار 7 فروری 1935ء کو فیصلہ بحق مدعیہ صادر ہوا۔ بہاولپور ایک اسلامی ریاست تھی، اس کے والی نواب جناب صادق محمد خاں خامس عباسی مرحوم ایک سچے مسلمان اور عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ بہاولپور کے معروف بزرگ کے عقیدت مند تھے۔ خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے تمام خلفاء کو اس مقدمہ میں گہری دلچسپی تھی۔ اس وقت جامعہ عباسیہ بہاولپور کے شیخ الجامعہ مولانا غلا م محمد گھوٹوی مرحوم تھے جو حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے ارادت مند تھے۔ لیکن اس مقدمہ کی پیروی اور امت محمدیہ کی طرف سے نمائندگی کے لئے سب کی نگاہ انتخاب دیو بند کے فرزند شیخ الاسلام حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ پر پڑی، مولانا غلام محمد صاحب کی دعوت پر اپنے تمام تر پروگرام منسوخ کر کے مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ بہاولپور تشریف لائے تو فرمایا کہ جب یہاں سے بلاوا آیا تو میں ڈابھیل کے لے بارکاب تھا مگر میں یہ سوچ کر یہاں چلا آیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی شاید یہی بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جانبدار بن کر بہاولپور آیا تھا، اگر ہم ختم نبوت کی حفاظت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے۔ ان کے تشریف لانے سے پورے ہندوستان کی توجہ اس مقدمہ کی طرف مبذول ہوگئی، بہاولپور میں علم کی موسم بہار شروع ہوگئی۔ اس سے مرزائیت کو بڑی پریشانی لاحق ہوئی۔ انہوں نے بھی ان حضرات علماء کی آ ہنی گرفت اور احتسابی شکنجے سے بچنے کیلئے ہزاروں جتن کئے۔ مولانا غلام محمد گھوٹوی، مولانا محمد حسین کولوتارڑوی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری، مولانا نجم الدین، مولانا ابو الوفاشاہ جہان پوری اور مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم و شکراللہ سعیہم کے ایمان افروز اور کفر شکن بیانات ہوئے۔ مرزائیت بوکھلا اٹھی۔ ان دنوں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ پر اللہ رب العزت کے جلال اور حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ وبارک وسلم کے جمال کا خاص پر تو تھا۔ وہ جلال و جمال کا حسین امتزاج تھے، جمال میں آکر قرآن و سنت کے دلائل دیتے تو عدالت کے درودیوارجھوم اٹھتے اور جلال میں آکر مرزائیت کو للکارتے تو کفر کے ا یوانوں میں زلزلہ طاری ہوجاتا، مولانا ابوالوفا شاہ جہان پوری نے اس مقدمہ میں مختار مدعیہ کے طور پر کام کیا۔ایک دن عدالت میں مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جلال الدین شمس مرزائی کو للکار کر فرمایا کہ اگر چاہو تو میں عدالت میں یہیں کھڑے ہو کر دکھاسکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے مرزائی کانپ اٹھے۔ مسلمانوں کے چہروں پر بشاشت چھاگئی اور اہل دل نے گواہی دی کہ عدالت میں انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نہیں بلکہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا وکیل اور نمائندہ بول رہا ہے۔
علمائے کرام کے بیانات مکمل ہوئے، نواب صاحب مرحوم پر گورنمنٹ برطانیہ کا دباؤ بڑھا۔ اس سلسلہ میں مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ خضرحیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ لندن گئے ہوئے تھے۔ نواب آف بہاولپور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن گزارا کرتے تھے۔ نواب مرحوم سر عمر حیات ٹوانہ لندن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز گورنمنٹ کا مجھ پر دباؤ ہے کہ ریاست بہاولپور سے اس مقدمہ کو ختم کرادیں تو اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالت مآب کا توان سے سودا نہیں کیا، آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے میں حق و انصاف کے سلسلہ میں اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری نے یہ واقعہ بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کی نجات کے لئے اتنی بات کافی ہے۔ جناب محمد اکبر جج مرحوم کو ترغیب و تحریص کے دام تزویر میں پھنسانے کی مرزائیوں نے کوشش کی لیکن ان کی تمام تدابیر غلط ثابت ہوئیں، مولانا سید محمد انور شاہ کشمیر ی رحمۃ اللہ علیہ اس فیصلہ کے لیے اتنے بے تاب تھے کہ بیانات کی تکمیل کے بعد جب بہاولپور سے جانے لگے تو مولانا محمد صادق مرحوم سے فرمایا کہ اگر زندہ رہا تو فیصلہ خود سن لوں گا اور اگر فوت ہوجاؤں تو میری قبر پر آکر یہ فیصلہ سنا دیا جائے۔ چنانچہ مولانا محمد صادق نے آپ کی وصیت کو پورا کیا۔ آپ نے آخری ایام علالت میں دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ و طلبہ اور دیگر بہت سے علماء کے مجمع میں تقریر فرمائی تھی، جس میں نہایت درد مندی و دل سوزی سے فرمایا تھا۔ وہ تمام حضرات جن کو مجھ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ تلمذ کا تعلق ہے اور جن پر میرا حق ہے کہ میں ان کو خصوصی وصیت اور تاکید کرتا ہوں کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت و پاسبانی اورفتنہ قادیانیت کے قلع قمع کو اپنا خصوصی کام بنائیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی شفاعت فرمائیں، ان کو لازم ہے کہ ختم نبوت کی پاسبانی کا کام کریں۔
یہ مقدمہ حق و باطل کا عظیم معرکہ تھا۔ جب7 فروری 1935ء کو فیصلہ صادر ہوا تو مرزائیت کے صحیح خدوخال آشکارا ہوگئے۔ بلاشبہ پوری امت جناب محمدا کبر خان جج صاحب مرحوم کی مرہون منت ہے کہ انہوں نے کمال عدل و انصاف محنت و عرق ریزی سے ایسافیصلہ لکھا کہ اس کا ایک ایک حرف قادیانیت کے تابوت میں کیل ثابت ہوا۔ قادیانیوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا بشیر کی سربراہی میں سرظفراللہ مرتد سمیت جمع ہو کر اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ و بچار کی لیکن آخر کار اس نتیجہ پر پہنچے کہ فیصلہ اتنی مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہوا کہ اپیل بھی ہمارے خلاف جائے گی۔ اللہ رب العزت کی قدرت کے قربان جائیں، کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ ایک دفعہ پھرجاء الحق وزھق الباطل کی عملی تفسیر اس فیصلہ کی شکل میں امت کے سامنے آگئی اور مرزائی فبھت الذی کفر کا مصداق ہوگئے، اس تاریخ سازفیصلہ نے چار دانگ عالم میں تہلکہ مچا دیا۔مرزائیوں کی ساکھ روز بروز گرنا شروع ہوگئی۔
*عقیدہ ختم نبوتﷺ* جس طرح قرآن پاک کی آیات اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے اسی طرح عقیدہ ختم نبوت صحابہ کرام ؓ اور امت محمدیہ کے اجماع سے بھی ثابت ہے۔جس طرح کسی بھی مسئلے پر قرآن اور حدیث بطور دلیل ہیں۔اسی طرح صحابہ کرام ؓ کا اجماع یا امت کا اجماع بھی کسی مسئلے پر دلیل ہیں۔
آیئے پہلے اجماع کی حقیقت اور اہمیت دیکھتے ہیں اور پھر عقیدہ ختم نبوتﷺ پر صحابہ کرام ؓ کا اجماع اور امت کا اجماع دیکھتے ہیں۔ جاری
اجماع کی حقیقت
اللہ تعالٰی نے ہمارے آقا و مولی سیدنا محمد مصطفیﷺ کو جو بےشمار انعامات دیئے ہیں ان میں سے ایک انعام *"اجماع امت"* بھی ہے۔
اجماع کی حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی مسئلے کے حکم پر امت کے علماء مجتہدین اتفاق کرلیں تو اس مسئلے پر عمل کرنا بھی اسی طرح واجب ہوجاتا ہے۔جس طرح قرآن اور احادیث پر عمل کرنا واجب ہے۔
چونکہ حضورﷺ کے بعد کسی نئے نبی نے نہیں آنا تھا۔اور آپﷺ کے بعد کوئی ایسی ہستی امت میں موجود نہیں تھی جس کے حکم کو غلطی سے پاک اور اللہ تعالٰی کی طرف سے سمجھا جائے۔اس لئے اللہ تعالٰی نے امت محمدیہﷺ کے علماء مجتہدین کے اجتہاد کو یہ درجہ دیا کہ ساری امت کے علماء مجتہدین کسی چیز کے اچھے یا برے ہونے پر متفق ہوجایئں وہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ چیز اللہ تعالٰی کے ہاں بھی ایسی ہی ہے جیسے اس امت کے علماء مجتہدین نے سمجھا ہے۔
اس بات کو حضورﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
*"عن أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِﷺ، يَقُولُ:إِنَّ أُمَّتِي لَنْ تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ اخْتِلَافًا فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ"*
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
"میری امت گمراہی پر کبھی جمع نہ ہو گی، لہٰذا جب تم اختلاف دیکھو تو سواد اعظم (یعنی بڑی جماعت) کو لازم پکڑو۔"
(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 3950 ٬ باب سواد الأعظم)*
اصول کی کتابوں میں اجماع امت کے حجت شرعیہ ہونے اور اس کے لوازمات اور شرائط کے بارے میں مفصل بحثیں موجود ہیں۔جن کا خلاصہ یہ ہے کہ احکام شرعیہ کی حجتوں میں قرآن اور حدیث کے بعد تیسرے نمبر پر اجماع کو رکھا گیا ہے۔
اور جس مسئلے پر صحابہ کرام ؓ کا اجماع ہوجائے تو وہ اسی طرح قطعی اور یقینی ہے جس طرح کسی مسئلے پر قرآن کی آیات قطعی اور یقینی ہیں۔
چنانچہ علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ
*"واجماعھم حجتہ قاطعتہ یجب اتباعھا بل ھی اوکد الحجج وھی مقدمتہ علی غیرھا ولیس ھذا موضع تقریر ذلک فان ھذا الاصل مقرر فی موضعہ ولیس فیہ بین الفقھاء ولا بین سائر المسلمین الذین ھم المومنون خلاف۔"*
"اجماع صحابہ ؓ حجت قطعیہ ہے بلکہ اس کا اتباع فرض ہے۔بلکہ وہ تمام شرعی حجتوں میں سب سے زیادہ موکد اور سب سے زیادہ مقدم ہے۔یہ موقع اس بحث کا نہیں۔کیونکہ ایسے مواقع (یعنی اصول کی کتابوں میں) یہ بات اہل علم کے اتفاق سے ثابت ہوچکی ہے۔اور اس میں تمام فقہاء اور تمام مسلمانوں میں جو واقعی مسلمان ہیں کسی کا اختلاف نہیں۔"
*(بیان الدلیل علی بطلان التحلیل جلد صفحہ 240)*
*"عقیدہ ختم نبوتﷺ پر صحابہ کرام ؓ کا اجماع"*
اسلامی تاریخ میں یہ بات حد تواتر کو پہنچ چکی ہے کہ مسیلمہ کذاب نے حضورﷺ کی موجودگی میں نبوت کا دعوی کیا اور ایک بڑی جماعت نے اس کے دعوی نبوت کو تسلیم بھی کر لیا۔
ایک دفعہ مسیلمہ کذاب کا ایلچی حضورﷺ کے پاس آیا تو حضورﷺ نے اس سے مسیلمہ کذاب کے دعوی کے بارے میں پوچھا تو ایلچی نے کہا کہ میں مسیلمہ کذاب کو اسکے تمام دعووں میں سچا سمجھتا ہوں۔تو جواب میں حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو میں تمہیں قتل کروادیتا۔
کچھ عرصے بعد ایک صحابی ؓ نے اس مسیلمہ کذاب کے ایلچی کو ایک مسجد میں دیکھا تو اس کو قتل کروادیا۔
حدیث کے الفاظ اور ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
*عَنْ أَبِيهِ نُعَيْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِﷺ يَقُولُ لَهُمَا حِينَ قَرَأَ كِتَابَ مُسَيْلِمَةَ: مَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا ؟ قَالَا: نَقُولُ كَمَا قَالَ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا۔*
حضرت نعیم بن مسعود اشجعی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو جس وقت آپ نے مسیلمہ کا خط پڑھا اس کے دونوں ایلچیوں سے کہتے سنا: تم دونوں مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ان دونوں نے کہا:ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ نے کہا ہے ،(یعنی اس کی تصدیق کرتے ہیں) آپﷺ نے فرمایا:
اگر یہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کئے جائیں تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا۔
*(ابوداؤد: حدیث نمبر 2761 ٬ باب فی الرسل)*
مسیلمہ کذاب کے ایلچی کو عبداللہ ابن مسعود ؓ نے قتل کروایا۔یہ واقعہ درج ذیل روایت میں ہے۔
*"عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ، فَقَالَ: مَا بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْ الْعَرَبِ حِنَةٌ، وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ،فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِفَجِيءَ بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ،قَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِﷺ يَقُولُ:لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ فَأَنْتَ الْيَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ، فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلًا بِالسُّوقِ"*
"حضرت حارث بن مضرب سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آ کر کہا:میرے اور کسی عرب کے بیچ کوئی عداوت و دشمنی نہیں ہے،میں قبیلہ بنو حنیفہ کی ایک مسجد سے گزرا تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسیلمہ پر ایمان لے آئے ہیں،یہ سن کر عبداللہ بن مسعود ؓ نے ان لوگوں کو بلا بھیجا،وہ ان کے پاس لائے گئے تو انہوں نے ابن نواحہ کے علاوہ سب سے توبہ کرنے کو کہا، اور ابن نواحہ سے کہا:میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے: اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا آج تو ایلچی نہیں ہے۔پھر انہوں نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا تو انہوں نے بازار میں اس کی گردن مار دی، اس کے بعد عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا:جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہے وہ بازار میں جا کر دیکھ لے وہ مرا پڑا ہے"
*(ابوداؤد:حدیث نمبر 2762 ٬ باب فی الرسل)*
جب حضورﷺ کی وفات ہوئی تو اس کے بعد بہت سے فتنوں نے سراٹھایا جن میں منکرین زکوۃ کا فتنہ بھی تھا۔صحابہ کرام ؓ نے منکرین زکوۃ کے خلاف بھی جہاد کیا لیکن جہاد کرنے سے پہلے اس پر بحث و مباحثہ بھی ہوا کہ منکرین زکوۃ کے خلاف جہاد کیا جائے یا جہاد نہ کیا جائے۔ جب صحابہ کرام ؓ متفق ہوگئے تو پھر منکرین زکوۃ کے خلاف جہاد ہوا۔
لیکن جب مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جہاد کا حکم دیا تو کسی ایک صحابی نے یہ نہیں کہا کہ وہ کلمہ گو ہے اس کے خلاف جہاد نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ تمام صحابہ کرام ؓ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کو کفار سمجھ کر کفار کی طرح ان سے جہاد کیا۔ اور مسیلمہ کذاب کو قتل کرنے کی وجہ صرف اس کا دعوی نبوت تھا کیونکہ ابن خلدون کے مطابق صحابہ کرام ؓ کو اس کی دوسری گھناونی حرکات کا علم اس کے مرنے کے بعد ہوا۔
اور یہی صحابہ کرام ؓ کا عقیدہ ختم نبوت پر اجماع ہے۔
🚨*"عقیدہ ختم نبوت پر اجماع امت"*
عقیدہ ختم نبوتﷺ پر اجماع امت کے چند حوالے ملاحظہ فرمائیں۔
*حوالہ نمبر 1*
ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں۔
*"دعوی النبوۃ بعد نبیناﷺ کفرا بالاجماع۔"*
ہمارے نبیﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا امت کے اجماع سے کافر ہے۔
*(الفقہ الاکبر صفحہ 150)*
*حوالہ نمبر 2*
امام غزالیؒ نے لکھا ہے کہ
*"ان الامتہ فھمت بالاجماع من ھذا الفظ ومن قرائن احوالہ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا۔وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص فمنکر ھذا لایکون الا منکر الاجماع"*
"بیشک امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی رسول ہوگا۔اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں۔پس اس کا منکر یقینا اجماع امت کا منکر ہے۔"
*(الاقتصاد فی الاعتقاد صفحہ 178 ٬ الباب الرابع ٬بیان من یجب تکفیرہ من الفرق ٬طبع بیروت 2003ء)*
*حوالہ نمبر 3*
علامہ آلوسیؒ ختم نبوت پر امت کےاجماع کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
*"وکونهﷺ خاتم النبیین مما نطقت بہ الکتاب وصدعت بہ السنتہ واجمعت علیہ الامتہ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان اصر۔"*
"آنحضرتﷺ کا خاتم النبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے جس پر کتاب(قرآن) ناطق ہے اور احادیث نبویﷺ اس کو بوضاحت بیان کرتی ہیں۔ اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے اگر وہ توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔"
*(روح المعانی جلد 22 صفحہ 41 تفسیر آیت نمبر 40 سورة الاحزاب)*
*حوالہ نمبر 4*
قاضی عیاضؒ نے خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دور کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ اس کے دور میں ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا۔تو خلیفہ نے وقت کے علماء جو تابعین میں سے تھے ان کے فتوی سے اس کو قتل کروادیا۔قاضی صاحب اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ
*"وفعل ذالک غیر واحد من الخلفاء والملوک باشباھھم واجمع علماء وقتھم علی صواب فعلھم والمخالف فی ذالک من کفرھم کافر۔"*
"اور بہت سے خلفاء سلاطین نے ان جیسے مدعیان نبوت کے ساتھ یہی معاملہ کیا ہے۔اور اس زمانے کے علماء نے ان سے اس فعل کے درست ہونے پر اجماع کیا ہے۔اور جو شخص ایسے مدعیان نبوت کو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے۔"
*(شرح الشفاء جلد 2 صفحہ 534 طبع بیروت 2001ء)*
⚪ *عقیدہ ختم نبوتﷺ* کے بارے میں قرآن ،حدیث اور اجماع امت کی بحث کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
*1)* عقیدہ ختم نبوتﷺ قرآن پاک کی 99 آیات سے ثابت ہے۔
*2)* عقیدہ ختم نبوتﷺ 210 سے زائد احادیث سے ثابت ہے۔
*3)* عقیدہ ختم نبوتﷺ تواتر سے ثابت ہے۔
*4)* عقیدہ ختم نبوتﷺ صحابہ کرام ؓ کے اجماع اور امت کے اجماع سے بھی ثابت ہے۔
*5)* مسئلہ ختم نبوت پر امت کا سب سے پہلا اجماع منعقد ہوا۔
*6)* عقیدہ ختم نبوتﷺ کی وجہ سے قرآن پاک کی حفاظت کا اللہ تعالٰی نےوعدہ فرمایا۔
Comments
Post a Comment